پونے3جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سینئرکانگریسی لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگوجے سنگھ نے کہا کہ کانگریسی لیڈران متحد ہو جائیں تو اس پارٹی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا ہے۔ پردیش کانگریس کو آرڈینیشن کمیٹی کے سربراہ مسٹر سنگھ کل یہاں صحافیوں سے گفتگو کے دوران پارٹی میں صف بندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سب لوگ دیکھیں گے تمام لیڈر متحد ہو کر آئندہ اسمبلی کا انتخاب لڑیں گے۔ جب تک لیڈران متحد ہو کر انتخاب نہیں لڑیں گے تو پارٹی انتخاب نہیں جیت پائے گی اور متحد ہوجانے پر کوئی طاقت بھی کانگریس کو شکست نہیں دے سکے گی۔ ریاستی کانگریس کے لیڈروں اور کارکنان کو پرانے گلے شکوے بھلاکر متحد کرنے کی غرض سے مسٹر سنگھ نے اسی ہفتہ بندیل کھنڈ بلاک کے ضلع ٹیکم گڑھ واقع مشہور راجا رام مندر میں پوجا کرنے کے بعد ’ ایکتا یاترا‘ شروع کی ہے۔ اس دوران وہ ٹیکم گڑھ اور ضلع پنا کا سفر کرچکے ہیں۔ ان کے ساتھ سینئر لیڈر ستیہ ورت چترویدی، سابق وزیر مکیش نایک ، سابق ایم پی رامیشور نکھرا اور اس بلاک کے دیگر کانگریسی لیڈران موجود تھے۔ اس یاترا کے تحت مسٹر سنگھ آئندہ تین ماہ کے دوران ریاست کے تمام 51 اضلاع کا سفر کریں گے۔کانگریس کی اسمبلی ا نتخاب میں جیت کے بعدوزیراعلیٰ کو ن ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ یہ ممبر اسمبلی کی جماعت طے کریگی یا جس شخص پرمسٹر راہل گاندھی کی نظر کرم ہوگی وہی وزیراعلیٰ ہوگا۔ اسمبلی انتخاب سے پہلے کسی بھی پارٹی کے ساتھ انتخابی سمجھوتہ کیے جانے کے متعلق پوچھے گئے سوال کے سلسلے میں ان کا جواب تھا کہ اس کے متعلق آخری فیصلہ پارٹی کرے گی۔ انہیں کانگریسی لیڈروں اور کارکنان کیدرمیان مفاہمت پیدا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ پوری ریاست میں جاکر یہ کام کریں گے۔ اس دوران انہوں نے مرکز کی نریندر مودی حکومت اور مدھیہ پردیش کی شیو راج سنگھ چوہان کی حکومت پر وعدہ خلافی کے متعدد الزامات لگائے۔